کوImage    Image

                                                                          ‎ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہینگے ‏

ہر باشعور شخص اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ، اگر شدت پسندی اور انتیہا پسندی کو شکست دینی ہے تو تعلیم کو فروغ دینا ہوگا مگر پاکستان کے تعلیمی نظام کو دیکھیں تو ادارے قبرستان کا منظر پیش کر رہے کیونکہ جب ہم علم و عقل و شعور نہ رکھنے والوں کو وزارت تعلیم جیسی اہم وزارت پر فائز کردینگے تو تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کوئ حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں وزارت تعلیم ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جو خود تعلیم کے دشمن اور تعلیم کی اہمیت سے ناواقف ہوتے اور اپنی وزارت کا فائدہ اٹھاتے ہوے تعلیمی اداروں میں اپنی صفت جیسے لوگوں کو سفارشوں پر بھرتی کر کے پاکستان کے مستقبل کے معماروں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں اور انھیں اندھیروں میں دھکیلتے ہیں پورے پاکستان خاص طور پر سندھ کا تعلیمی نظام اور ادارے زبوں حالی شکار ہیں مگر اس کے زمہ دار تعلیمی اداروں کے منتظمین بھی ہیں جو سیاسی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں عہدوں پر فائز تو ہوجاتے ہیں مگر طلبہ کے لیے کچھ نہیں کرتے اور ہمارے تعلیمی اداروں کو قبرستان کی طرح ویران کیا ہوا ہے جس کی وجہ یہ  بھی ہے کہ ان اداروں میں سہولیات ہونے کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کا مکمل طور پر فروغ ممکن نہیں ہو پارہا -ایک سرکاری کالج میں تقریبا 700 سے 1000 طلبأ کے نئے داخلے ہوتے ہیں اور شروع میں طالب علموں کی حاضری 250 سے 300 تک ہوتی ہے مگر چند مہینوں بعد طلباء کی تعداد اس سے بھی  کم رہ جاتی ہے اور اس کی اصل وجہ صرف اساتذہ اور انتیظامیہ کی عدم توجہ ہے  اساتذہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور کئ کالجوں میں تو پرنسپلز کئ کئ ماہ تک غیر حاضر رہتے ہیں کچھ سیاسی پرنسپلز اپنے دو عہدے رکتھے ہیں اور جب خود ہی غیر حاضر رہینگے تو ٹیچرز اور طلباء کو  کیسے  ریگولر کرینگے ؟ یہاں تو اساتذہ بھی سیاسی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں جن  کا عین  مقصد اپنی پوسٹنگ اور پروموشن ہوتی ہے اور یا پھر وقت پر  تنخواہ لینا.
اگر پاکستان کے  صرف ایک صوبے سندھ  کے  تعلیمی نظام کا جائزہ لیا جاے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمران کس طرح سے وطن کے معماروں کے ساتھ کس درجے کی غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں دیگر ممالک اپنے نوجوانوں کو آی ٹی اور دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بیش بہا مواقع فراہم کرہے اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی تو دور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی فراہم نہیں کرہے جو کہ یونیورسل ایکٹ کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی ہے اقوام متحدہ کا یونیورسل ایکٹ کا آرٹیکل 6 ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ اعلی تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے مگر کچھ لوگ تعصب کا عینک لگاے ہوے ہیں  علم حاصل کرنے کے مواقع دینا تو دور ان کیلیے تو تعلیمی دروازے بند کررہے ہیں سندھ  کا دوسرا اور پاکستان کا ساتواں بڑا شہر حیدرآباد  25 لاکھ سے زائد کی آبادی کا شہر ہے مگر آج تک حیدرآباد کے طلباء کے لیے اعلی تعلیم  کے دروازہ بند ہیں  پچھلے دور جکومت میں سندھ کی صوبائ اسمبلی میں جب حیدرآباد میں سرکاری  جامع کا بل پیش کیا تو اس وقت کے  صوبائ وزیرتعلیم پیر مظہرالحق صاحب نے کھل کر مخالفت  کی جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر تھے جب ایسے متعصب لوگوں کوایسے عہدے دیے جاینگے  تو تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہی ہونگے موجودہ وزیر تعلیم سندھ نثار کھوڑو صاحب سے دردمندانہ  اپیل اور درخواست ہے کہ حیدرآباد کے طلباء کے لیے سرکاری جامعہ بننے دیں وزارت  تعلیم میں موجود کرپٹ مافیا کو  نکالیں جو بڑے عہدوں پر ہیں  اور گھر بیٹھے بھاری تنخواہ وصول کررہے ہیں جب اساتذہ ہی ریگولر نہیں ہونگے تو طلبأ امتحانات میں نقل ہی کرینگے ایسے اساتذہ کی وجہ سے معاشرے میں نقل کا رجحان تیزی  سے  بڑھ رہا ہے جس کے لیے سب سے پہلے اساتذہ  کو پابند کرنا ہوگا ہمارے تعلیمی ادارے ان  ہی  وجوہات کی وجہ سے  زبوں حالی کا شکار ہیں اے پی ایم ایس او نے کئ بار طلباء کی پریشانیوں اور مشکلات کے حوالے سے انتظامیہ کو آ گاہ کیا تو وہ صرف وعدوں تک محدود رہے .تعلیم کے فقدان کی وجہ سے ہمارا ملک مشکلات میں گہرا ہوا ہے اگر ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو تعلیم کو عام کرنا ہوگا نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا ورنہ ہم کبھی ترقی نہیں کرپاینگے وزیرتعلیم  سندھ نثار کھوڑو صاحب ہنگامی بنیاد پر سندھ میں نئ جامعات کے قیام کا اعلان کیا جاے اور خاص طور پر حیدرآباد کے  طلباء کے یونیورسٹی کے دیرینہ مطالبے پر غور کریں .

Image                 Image

Advertisements