شہری سندھ کے حالات اور اوچھے ہتھکنڈے ، یا تو ایک بار ہی فیصلہ کرلیا جاے کہ شہری سندھ میں موجود مہاجروں کو تسلیم کرنا ہے اور انکے حقوق دینے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ 1947 سے لیکر 2014 تک جس طرح سے مہاجروں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مہاجروں کا پاکستان میں خون معاف ہے مسلسل 25 سالوں سے مہاجروں پر کسی نہ کسی طریقے سے ریاستی جبر کیا جارہا ہے90 دہائ میں  جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کا بہانہ بنا کر 72 مچھلیوں کی آ ڑ میں حکومت نے کھلے عام مہاجروں کا قتل عام کیا گیا مہاجروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کیلیے ایجنسیوں نے اپیشل ٹارچر سیل قائم کیے اور  تاریخ کا بد ترین تشدد کیا گیا مسلسل  مہاجروں کی نسل کشی کی گئ اور  ان 72 مچھلیوں کو اسی طرح آ زاد چھوڑ دیا گیا اور  پھر قانون  نافد کرنے والے اداروں کے ساتھ 72 مچھلیوں جن کو حکومتی سر پرستی حاصل تھی  انھیں  قانون  نافذ کرنے والے اداروں کے  ساتھ ملا کر حکومتی تحفظ دیا اور پھر  مہاجروں کی نسل کشی کا ٹھیکہ دے دیا اور پھر مسلسل مہاجروں کی نسل کشی  پر حکومت نے ان درندہ صفت دہشت گردوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بے ضابطہ پروموشن دیں اور وہ 72 مچھلیوں کو  پالتے  رہے اور آج وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں  میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور آج 24 سال بعد وہ 72 مچھلیاں آج 2014 میں 458  ہوچکی ہیں ماضی کی طرح ایک بار پھر 72 مچھلیوں کی طرح 2013 4 ستمبر کو 458 کرمنلز کے  خلاف آپریشن کی آڑ میں مہاجروں کی نسل  کشی کا منصوبہ بنایا  گیا جو اب 2014  تک جاری ہے جہاں ایک طرف کراچی  میں اپریشن جاری ہے تو دوسری طرف ٹارگٹ کلرز بہت منظم طریقے سے کراچی میں مہاجروں کو کھلے عام نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اسی قوم کو نشانہ بنا رہے جسکی  پچھلے 25 سالوں سے نسل کشی  جاری ہے تحفظ فراہم کرنے والے  ہی  جان کے دشمن بنے ہوے  ہیں اس قوم پر کب تک ظلم کیا  جاے  گا؟ 458 کرمنلز کے لیے  6 ماہ  پہلے کراچی میں  شروع ہونے والاٹارگٹیڈ آپریشن اب 2014 تک مسلسل جاری ہے  اور کراچی میں بد امنی اور بے چینی  پھیل رہی ہے  458 کرمنلز جن کے لیے کراچی میں  اپریشن شروع گیا ان میں  سے کسی کو حراست  میں نہیں  لیا گیا  آور  ہر اقدام ماضی کی طرح دہرایا  جار ہا ہے  72 سے 458 ہونے والی   مچھلیوں  کو پھر  قانون نافذ کرنے  والے ادارے  اپنی چھتری  فراہم کررہے ہیں اور  مزید   تحفظ دے رہے  ہیں .
اس چھ ماہ کے اس آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے 45 سے زائد  مہاجر کارکنان لاپتہ اور اسیر ہوے ہیں اور 25 کارکنان کو ماورائے عدالت یعنی عدالت لے جانے سے پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سادہ لباس اہلکار جو ایک ڈیتھ اسکواڈ ہے اس نے حراست میں لے کر بنا پروسیکوشن کے قتل کردیا گیا اور ان مہاجروں کی تعداد اس تعداد  سے کی زیادہ  ہے  جسے یہ سادہ لباس ڈیتھ اسکواڈ روزانہ چن چن کر پڑھے لکھے مہاجر عوام کو ٹارگٹ کا نشانہ بنا کر قتل کیا جارہا ہے 25 سالوں سے مہاجروں پر  مختلیف حربوں  سے ظلم و زیادتی کا نشانہ  بنایا جارہا  ہے  اخر یہ ظلم کب ختم ہوگا مہاجروں کو جینے  دو

 

https://www.facebook.com/photo.php?v=734937379879350&video_source=pages_finch_main_video

 

https://www.facebook.com/photo.php?v=689213901119684&set=vb.128042927236787&type=2&theater

 

 

ایم کیو ایم  مسلسل ڈیتھ اسکوائڈ کے خلاف چیخ رہی ہے کہ سادہ لباس اہلکار ایم کیو ایم کے مہاجر کارکنان کو گھروں سے لے جا کر لاپتہ کررہے ہیں اور پھر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر رہے مگرکسی نے  توجہ نہ دی  اور نہ ہی ایم کیو ایم کی ڈیتھ اسکوائڈ کے خلاف چیخوں پر کان دھرے ایسا محسوس ہوتا ہے کراچی میں مہاجروں پر قیامت صغرا برپا کی ہوی ہے ہر گھر میں انتیظار ہے ہر گھر میں ماتم ہے نہ کوئی سننے والا ہے اور نہ کوئی دیکھنے والا مگر یہ بھی بات رکارڈ پر ہے مہاجروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے  والوں کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا سے مٹا دیا اور آج انکا کوئ نام لینے والا نہیں مہاجر دشمنوں اس وقت سے ڈرو جب تمھارے ساتھ بھی یہ نہ ہو .چند ماہ سے یہ ڈیتھ اسکوئڈ کراچی میں اپنی بربریت سے خوف پھیلا رہا ہے پہلے تو کوئی ماننے کوئ تیار نہیں تھا کہ کوئ کراچی میں سادہ لباس ڈیتھ اسکوئڈ ہے مگر 19-04-2014 کو ایک نجی چینل نے حکمرانوں کے دعویٰ ہوا میں اڑادیے جب اس سادہ لباس ڈیتھ اسکوائڈ اہلکاروں کی فٹیج نشر کی جس میں واضح دکھایا گیا کہ سادہ لباس ڈیتھ اسکوائڈ اہلکار نے نہتے 2 افراد کو کس  طرح گولیاں مار کر قتل کردیا .اس فٹیج کے نشر ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے دعوی اور تحفظات درست تھے اور یہ   ڈیتھ اسکوائڈ کافی عرصے سے اس طرح کے ماورائے عدالت قتل کر رہا ہے اور خاص طور پر مہاجروں  اور ایم کیو ایم کے خلاف سرگرم ہے اور ڈیتھ اسکوئڈ سادہ لباس ان اہلکاروں پر مشتمل ہے جس کا  زکر اسمبلی میں شرجیل  میمن صاحب نے کیا تھا مگر ان  سب  حقائق کے باوجود اب بھی  سادہ لباس ڈیتھ اسکوئڈ  غیر قانونی اور غیر آئینی کاروائیاں جاری  رکھے ہوے ہے  . اس کے خلاف کوئی صحافی   تجزیہ نگار یا انسانی حقوق کی تنظیم کیوں آواز بلند نہیں کرتیں؟ خدارا  مہاجروں کو تحفظ دیا  جاۓ اگر مہاجر اپنی تحفظ کے لیے میدان میں آگئے تو پھر  سادہ لباس سے سادہ لباس خود نمٹ لے گے پھر دیکھا  جاے گا کہ مہاجر رہے گا یا سادہ لباس ڈیتھ اسکوائڈ

 

https://www.facebook.com/photo.php?v=733197653386656&video_source=pages_finch_thumbnail_video

https://www.facebook.com/photo.php?v=733101293396292&video_source=pages_finch_thumbnail_video

 

 

Image    Image

Image  Image

Advertisements