ImageImage

 

کراچی میں جاری آپریشن جو ہر بار کی طرح اس بار بھی ایم کیو ایم اور مہاجروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی مہاجر اور ایم کیو ایم اپنی دگنی طاقت اور ہمت سے ابھرینگے اور مخالفین کو اس بار بھی رسوائ اور زلت کا سامنا کرنا ہوگا مہاجراپنی منزل حاصل کرنے تک اپنے اس سلسلے کو جاری رکھے گے اور اس کے لیے تمام مہاجر اور ایم کیو ایم تیار ہیں اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں جس منزل کو حاصل کرنے کیلیے لاکھوں لوگوں نے اپنے بچے، ماں باپ، بہن بھائ ، عزیز رشتہ داروں اور اپنی تمام عمر کی قربانی دی ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے جو اپنی منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گا .

 سفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور  کتنا بازوے قاتل میں ہے …؟

مہاجروں ایم کیو ایم پر جس طرح سے ظلم ڈھاے جارہے ہیں وہ اب انتیہا کو پہنچ گئے ہیں اب ہماری نئ نسل اپنے بڑوں سے سوال کرنے لگے ہیں کہ پاکستان کو آزاد ریاست بنانا کوئ اتنا بڑا جرم تھا کہ آج مہاجروں کی تیسری نسل کو بھی اس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ پاکستان میں اردو بولنے والے کیا کوئ دوسری دنیا کہ لوگ ہیں جنھیں بنا کسی ثبوت و گواہ اور بنا کسی جرم کے قانون نافذ کرنے والے لوگ اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر قتل کردیتے ہیں آخر مہاجر ہی کیوں ؟ کیا مہاجروں کو اپنے دفاع کا حق نھیں پاکستان میں؟ کیا پاکستان میں عدالتیں ختم ہوگئ یا وکلاء اور ججز چھٹیوں پر چلے گئے ہیں؟ کیا مہاجروں کو انصاف فراہم کرنے والا کوئ نھیں؟پاکستان میں مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف سازشیں کب ختم ہوگی ؟ جب کسی معصوم بچے سے اسکا باپ ، بیوی سے اسکا شوہر ،ماں باپ سے انکی اولاد اور بہن سے اسکا بھائ چھین لوگے تو  انکی زندگی میں کیا بچے گا کبھی ان لوگوں کے دکھ کو محسوس  کرو متعصب حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے متعصب جنگلی اہلکاروں راہ راست پر آجاؤ تم پچھلے 30 سالوں سے مہاجروں کو چن چن کر مار رہے ہو مگر دیکھو مہاجروں  پر جبر و ظلم کرنے والے خود ختم ہوگئے مگر حق پرستی کا کارواں لاکھوں قربانیاں دے کر  بھی جاری و ساری ہے.
اس موجودہ اور حالیہ کراچ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے خلاف کاروائ کی آڑ میں درجنوں ایم کیوایم کے کارکنان اور مہاجروں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اپنے حراست لے رکھا کچھ کو اسیر بنا کر ادھر سے ٹرانسفر کر کے ذہنی اذیت دے رہے ہیں اور درجنوں مہاجروں کی حراست کے بارے میں ہماری ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لاعلمی کا فخریہ اظہار کر رہے جن میں سے اب  تک کچھ ایم کیوایم کے کارکنان کی لعنشیں ٹھٹھہ  حیدرآباد اور کراچی سے ملی ہیں خدارا یہ  کیسا ملک اورشھر اور انصاف ہے جہاں جنگل کے قانون سے بھی بدتر قانون ہے پہلے قانون نافذ کرنے والے خود ایم کیو ایم کے مہاجرکارکنان کو اپنی حراست میں لیتے ہیں اور پھر اس کی حراست کے بارے میں لا علمی کا اظہار کرتے ہیں اور پھر چند دن بعد ان لوگوں کی نعشیں ملتی ہیں خدارا ہو ش سے کام لیا جاے کراچی میں محافظ ہی مہاجروں اور انسانوں کے دشمن بنے ہوے ہیں بلاجواز عام لوگوں کو حراست میں لے کر ان کی رہائ کے لئے ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے عام لوگوں سے رشوت  وصول کر رہے ہیں اور مہاجروں ہونے کی صورت میں متعصب اہلکار چھوڑنے کے پیسے تو وصول کرتے ہیں ہی مگر ان پر انسانیت سوز تشدد بھی کیا جاتا ہے .حالیہ  کراچی آپریشن کے دوران لیے گئے زیر حراست کئ ایم کیو ایم  کے کارکنان  مہاجروں کی زیر حراست موت ہوچکی ہے اور بعد  میں  انکے خلاف ثبوت  نہ ملا مگر وہ  ہمارے   متعصب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بر بریت  اور  درندگی کا نشانہ  بن گئے.ہمارے حکمرانوں  اور انصاف کے  منصب پر بیٹھے متعصب شیطانوں پر لعنت ہے جو بڑی خاموشی اور فخر سے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتلوں جنگلی طالبانوں کو تو رہا کرسکتے ہیں مگر مہاجروں اور ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان جو بلاجواز بنا کسی ثبوت کے زیرحراست ہیں انکو کیوں نہیں چھوڑا جاتا ؟ مہاجر بے گناہ ہو کر بھی قانون نافذ کرنے والوں کی زیر حراست ہیں اور طالبان  جو  ہزاروں  پاکستانیوں کے قاتل ہیں ان قاتلوں کو رہا کیا جارہا ہے اور ہمارے حکمران ان قاتلوں کی وکالت کر  رہے ہیں.کیا  طالبان مہاجروں سے زیادہ امن پسند یا زیادہ محب وطن ہیں؟ .پاکستان میں  اب بچا کچا عدلیہ کا نظام ختم ہو چکا اور ججز اور وکلاء اور تمام پاکستانیوں ، سیاستدانوں کو سانپ سونگ گیا ہے ؟  حکمران جماعت نے طالبان کے قیدیوں  کو رہا  کر کے  مزید  قتل و غارت کا لائسنس دے دیا مگر کسی  نے  ان سے انکی رہای  کی وجوہات یا  ضمانت نہیں پوچھی ؟

ImageImageImage

Advertisements