تحفظ پاکستان آرڈیننس ایک کالا قانون ہے

 

ImageImageImage

 پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس 2014 کی شکل میں پھر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود متعصب اہلکاروں کی چاندی اور عید سے پہلے عید کروانے کی تیاری کیں جارہی ہیں ویسے بھی کراچی میں جب سے آپریشن جاری ہے تب سے کتنے ہی بے گناہ معصوم شہری لاپتہ ہیں اور پھر سپریم کورٹ میں دائر لاپتہ افراد کا کیس چل بھی رہا تھا کہ اچانک وفاقی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف تحفظ پاکستان آرڈیننس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کردیا اور اپنی ہی اکثریت سے اس تحفظ کے نام پر کالے قانون کے بل تحفط پاکستان آرڈیننس بل 2014 کو منظور کرالیا جس کی مخالفت تمام اپوزیشن جماعتوں نے کی مگر اس کے باوجود حکومت نے اسے منظور کرلیا سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں ایسے نازک حالات میں ایسا  کالا قانون عوام پر مسلط کردینا کہاں کی حماقت ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دہشتگردی کے خلاف بناےگئے 2002 کے اس قانون سے بھی زیادہ خطرناک یہ  پاکستان ٹروٹیکشن آرڈینینس بل 2014  ہے  جو نواز شریف کی حکومت نے اپنی سادہ اکثریت سے   قومی اسمبلی سے پاس کروایاہے .پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس  2014 ایسا کالا قانون جس میں متعصب اہلکاروں کو بااختیار اور عام عوام کو بے اختیار کیا جارہا ہے جس کی تمام شقیں عین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ویسے ہی حالیہ کراچی آپریشن میں  قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن کے آڑ میں عام شہریوں کو کئ کئ دن کے لئے حراست میں لے رہے اور انکو چھوڑنے کے لئے رشوت بٹور رہے ہیں اور رشوت نہ ملنے پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں یہاں پہلے ہی عام انسان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور ان حالات میں اس طرح کا کالا قانون عام انسان سے جینے کا حق چھیننے اور انکے حقوق غضب کرنے کے مترادف ہے .پاکستان  پروٹیکشن آرڈیننس 2014 ایک غیر آیئنی اقدام ہےاس قانون کے نفاز کے بعد کوی اپنے حق کے لیے لڑنا تو دور کوئ حق کے لئے اپنی آواز بھی بلند نہیں  کرسکے گا یہ آزادی اظہار کی خلاف ورزی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور اسکے بالکل متصادم ہے  جس میں لکھا ہے  قانون نافذ کرنے والے کسی کو بھی شک کی بنیاد پر 90 دن تک رکھ سکتے ہیں تحویل کے دوران اگر کوئ بے  گناہ شہری ہلاک ہوجاے تو وہ سیکیورٹی اہلکار  کسی  کو جوابدہ نہیں ہونگے اور نہ  ہی کوئی انکی تحویل کے دوران قانونی کاروائی کرسکتا  ہے  ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کے بھی گھر  پر  شک کی بنیاد پر چھاپا مار سکتے ہیں  . کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ اور اس بل کو پیش ہوے کئ دن ہوگے مگر کسی نے اس بل  کی مخالفت کے لیے واضح مؤقف اختیار نہں کیا ماسوائے  الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے جس نے  ہر فورم پر مسترد کرنے کا عندیہ دیا اور تحفظ پاکستان آرڈیننس بل کو یکسر مسترد کردیا اور اسے کالا قانون قراردیا ہے اور کسی جماعت نے اب تک کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا . اللہ نہ  کرے کہ  یہ کالا قانون  فومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی  منظور ہوجاے .
ایک طرف تو دہشت گردوں کو تحفوظ دے کر رہا کیا جارہا ہے اور دوسری طرف عام لوگوں سے انکے جینے کا حق تک چھینا جارہاہے  جب ایسے قانون بناے جارہے ہیں تو طالبان کو اس قانون کے کٹہرے میں لایا جاے گا ؟ یا پھر یہ کالا قانون صرف عام عوام کیلئے ہے اور دہشتگردوں کو اس قانون سے استثناء ہوگا ؟ خدارا عوام دوست قانون سازی کی جاے نہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس کی پامالی کے لیے قانون سازی نہ کی جاۓ . نواز شریف صاحب براے کرم انسانیت کا احترام کریں ایسا نہ ہو اس کالے تحفظ کا قانون کا پہلا شکار خود نواز شریف نہ بن جائیں اپنوں پے  ستم اور غیروں پر کرم نہ کی سیاست نہ کریں . پاکستان کے باشعور عوام اس کالے قانون پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس بل کو ماورائے آیئن قرار دے کر یکسر مسترد کرتے ہیں اسے سپریم کورٹ کالعدم قرار دے کر حکومت کو ایسی قانون سازی سے باز رہنے کا حکم دے.

 

Advertisements