کچھ ہونے کو ہے

 ‎بدلتے ہوے حالات اور  دنیا میں پھیلتی بے چینی اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ کچھ ہونے کو ہے یا پھر کچھ ہونے جا رہا ہے …. شام اور دیگر عرب ممالک میں جاری فرقہ ورانہ فسادات اور اسکا اٹھتا ہوا دھواں پاکستان میں داخل ہونے جارہا ہے سعودی عرب کی پاکستان کو بخشش اور طالبان سے مزاکرات کے درمیان سیزفائر بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے اور موجودہ حکمران کی بہت گھناونی سازش کی بو آرہی ہے پاکستان  بین الاقوامی دنیا کی مسلمانوں کے خلاف سازش میں ڈالروں کے عوض حصہ بننے جارہا ہے  ماضی کی طرح ایک بار پھر مسلمانوں اور پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں دھکیلا جارہاہے اور اپنے آقاؤں کو خوش کیا جارہا ہے اور اس بار پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگ میں جھونکا جارہا  ہے اور اپنی جیبیں گرم کرنے کیلئے عوام پر پھر جنگ مسلط کی جارہی ہے  .طالبان سے مزاکرات کے دوران سیزفائر اور  اسی دوران سعودی عرب کا پاکستان کو اتنی بڑی رقم دینا وہ بھی بلا جواز یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے اور اس امداد کے  بعد طالبان کا شام اور روس کی طرف مڑجانا وہ بھی اتنی بڑی تعداد میں یہ طالبان کا پاکستان سے انخلاء نواز شریف اور انکی حکومت کی نیتوں پر شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے آخر سعودی عرب کی امداد کے بعد طالبان کو شام اور ررس کی طرف کس نے موڑا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے  ہمارے حکمران ہی طالبان کو لیڈ کر  رہے ہیں ..نواز حکومت سعودی امداد کے عوض ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے اور اپنی افواج، طالبان کو شام اور روس میں استعمال کرنے کا ٹھیکہ لیا ہے جس کی شروعات اور اندرورن سندھ میں اسکا عکس دکھنا شروع ہوگیا ہے حال ہی میں   سندھکے شھر حیدرآباد اور لاڑکانہ میں مزہبی فساد کی جھلک دے رہی ہے اور ایسا محسوس ہورہاہے یہ اسا امداد کی چمک ہے جو ہمارے حکمران کو حال ہی میں ملی ہے اللہ نواز شریف اور انکی حکومت کو عقل و شعور  دے پہلے ہی پاکستان  انکی وجہ سے دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے اور سیکیورٹی کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور یہ حکمران شام میں جاری فرقہ واریت کی جنگ میں بلاوجہ حصہ دار بننے جارہے ہیں اور ایسا کرنے سے اس کے اثرات پاکستان کو بھگتنا پڑینگے پہلے  بھی پاکستان کے حکمرانوں نے قوم کو جنگ کی آگ میں جھونکا تھا  اور  ایک بار  پھر وہی غلطی دھرانے جارہے ہیں ہمارے حکمران ان ڈالروں کی چمک سے باہر آجائیں اور ملک کے مفاد میں فیصلے کریں .شام میں جاری فسادات کیلئے امریکہ،اسرائیل سعودی عرب  بحرین اور دیگر ممالک پاکستان کو استعمال کرکے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں .ہمیں  اپنی  غیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوے نیوٹرل ہونا چاہیے کیونکہ ہم کوئی بکاو مال نہیں ہم ایک باضمیر  قوم ہیں ہمارے حکمران بے غیرتی کا  مظاہرہ نہ کریں اور  ملک کے مفاد میں فیصلے کریں

Advertisements