صرف مشرف ہی کیوں ‎                

ImageImage     

 

سابق صدر جنرل( ر ) پرویز مشرف توقعات کے برعکس اور اپنی علالت کے باوجود پیر کو خصوصی عدالت میں پیش ہوے ان پر فرد جرم عائد کی گئ جس کو انہوں نے مسترد کردیا اور اپنی پاکستان کے لیے خدمات کا تزکرہ کیااور سب سے سوال کیا ملک کی حفاظت کرنے والا غدار ہوسکتا ہے ؟ انھوں نے یہ  بھی موقف بیان کیا کہ انھیں اپنی بیمار ماں کی عیادت کے لیے جانا ہے تو انکا نام ای سی ایل سے نکال دیا جاے اس پر عدلیہ نے تحریری حکم جاری کیا کہ مشرف کا نام عدلیہ نے ای سی ایل میں نہیں ڈالا حکومت نے ڈالا ہے اس لیے حکومت سے رجوع کیاجاے مشرف آزاد شھری انکی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں. عدلیہ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی  کہا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہ  نکالنے کیلیئے یہ جواز نہ بنایہ جاے کہ ان پر مقدمات ہیں .
اورعدالت نے جنرل مشرف کو حاضری سے استثنا دیاہے اس کے جواب میں قومی اسمبلی میں حکومتی رکن خواجہ آصف نے عدلیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جنرل مشرف نے آ یئن کی خلاف ورزی کی وہ ملک کہ غدار ہیں انھوں نے جزبات میں آ کر نواز شریف کی توجہ حاصل کرنے کیلیے جنرل مشرف کو غدار قرار دیا جبکہ جنرل مشرف پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوپایا سواۓ عدالت کے کسی کو کو  اختیار نہیں کہ وہ کسی کو غدار کہے یہ عدلیہ کی توہین  ہے اس طرح سے خواجہ آ صف اور ہمنوا نے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوششں کی ہے اسکے خلاف عدلیہ کو توہین عدالت کا نوٹس کرنا چاہیے خواجہ آصف اور ہمنوا بھول رہے ہیں جسے وہ غدار  کہہ رہے ہیں اسی جنرل کے  ہاتھوں وہ حلف اٹھا چکے  ہیں تو ان سے حلف لینے والا ہر شخص غدار ہوا تو صرف مشرف ہی کیوں ؟ .اگر ملک کا دفاع کرنا اور ملک کے لیے خدمات دینا غداری ہے تو پاکستان کو جنرل مشرف جیسے غداروں کی ضرورت ہے نوازشریف ، خواجہ آصف اور ہمنوا  جیسے چور لٹیرے اور بھگوڑے حکمرانوں کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں .اگر نواز شریف کو غداری کیس چلانا ہے  تو  پہلے وہ اپنی حکومت سے مستعفی ہوں اور بتائیں عوام کو کہ 1999 میں  انھوں نے مشرف سے معاہدہ کیوں کیا تھا؟ اگر جنرل مشرف غدار ہیں تو نواز شریف سب سے بڑے غدار ہیں جو اپنے ووٹرز کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جس جنرل  کو نواز اور ہمنوا غدار  کہہ رہے ہیں اسی سے معافی مانگ کر اس ملک سے  بھاگ گئے تھے …
ہمیں یاد ہے سب کچھ … تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ….نواز شریف اور ہمنوا اپنے گریبانوں میں جھانکوں اور یہ نسلی تعصب بند کرو جنرل مشرف کو اپنی علیل ماں سے ملنے دو ورنہ یہ جو تمھارے سر پر چار بال ہیں اس سے بھی ہاتھ دھو  بیٹھوگے  اور اس بار تمھیں  جدہ جانے کا بھی موقع نہیں ملے گا.
اس کو ہم نسلی تعصب نہیں  تو کیا کہیں؟ اتنے سارے جنرلز نے مارشل لا لگایا مگر آج تک انھیں غدار تو دور کی بات انھیں آئین شکن اور مجرم تک نہیں  کہا گیا آخر کیوں؟ ایسا تعصب مشرف کے ساتھ ہی کیوں ؟ پاک افواج ایک ایسا  ادارہ  ہے جو ہماری آزادی کے لیے  باعث فخر ہے اور جو اپنی خدمات کو بلا نسلی تعصب انجام دیتا ہے اور اسکے جنرل اور سابق صدر پر نسلی تعصب کی بنیاد پر غداری کابہتان لگانا وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ  مہاجر ہے ؟   اور پاکستانیوں کی خوشحالی  کی لیے عمل پیرا ہے .مہاجروں نے ہمیشہ بلا رنگ و نسل اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اسکا صلہ یہ مل رہا ہے  ایک اردو بولنے والے جنرل کو یہ چور لٹیرے اور جنرلوں کی اولادیں محب وطن جنرل پرویز مشرف پر غداری کا بہتان لگارہے ہیں اور ابھی مشرف پر کوئ  جرم ثابت نہیں ہوا اور اب تک ان پر جو فرد جرم عائد ہوئ تھی وہ اسے  پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں .نواز شریف اور ہمنوا بھول گئے شائد کہ انھوں نے اپنی سیاست کی  پرورش ایک فوجی کی گود میں حاصل کی تھی  اور آج اسی ادارے کے فوجی جنرل کو غدار ٹھرارہے ہیں نواز شریف صاحب آپ کو جس نے سیاست  میں جنم  دیا  ہے  جنرل مشرف بھی اسی ادارے کا سربراہ رہ چکے ہیں زرا ہوش سے کام لیں اس نسلی تعصب کو بند کرو  اور تعصبی کیس کو ختم کرو یا  پھر   تمام جنرلز  کے خلاف  غداری کیس چلاو صرف مشرف ہی کیوں؟ مشرف  کا ساتھ دینے  والے وزراء اور  ان  ججز کے خلاف بھی  غداری کیس کیوں نہیں  چلایا جاتا  جنھوں نے مشرف کو آیئن میں ترمیم  کرکے ملک چلانے کا اختیار دیا؟ نواز شریف صاحب اپنے ہواریوں  اور  اپنے رشتہ  دار وزراء کے خلاف مقدمہ  کیوں نہیں   چلاتے جنھوں ن جنرل  مشرف سے مینتیں کر کے  وزارتیں حاصل کیں.اور  ماضی میں جنرل مشرف سے حلف لینے  خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف اپنے موجودہ آقاؤں کو  خوش کرنے کیلیے اپنے  ماضی کو بھول گئے کہ وہ پہلے کس کی  گود  میں  سوار تھے ..
تمھیں یاد ہو کہ یاد  نہ ہو…….مگر
ہمیں سب کچھ یاد ہے …. 

Advertisements