بدقسمت! پاکستان یا پھر عوام                  

پاکستان کی عوام کو بدقسمتی سے آزادی نہ مل سکی ہم دنیا کے نقشے پر تو ابھر گۓ مگر افسوس کے ہم ان جاگیردارانہ وڈیرانہ سوچ سے آ زادی حاصل نہ کرسکے یہاں تک کہ پاکستان کی عوام کو تو اپنے بچوں کے مستقبل کا بھی سوچنے کی آزادی نہی  یہاں کے حکمرانوں نے تو عام کی سوچ کو بھی غلام بنارکھا ہے.ہم سے اچھے تو بنگالی تھے جنھوں نے اپنے آ نے والی نسلوں کے مستقبل کےلیے ان جاگیرداروں وڈیروں سے آزادی حاصل کرکے آ ج ہم سے کہیں اگے نکل گۓ اور آ ج تک ہم آ گے تو بڑھنا دور کی بات ہمارے حکمران تو عوام کو جینے کا حق بھی نہ دےسکے.پاکستان کی عوام بدقسمت ہے یا پھر عوام….بنگالی ہمارے بعد آ زاد ہونے کے باوجود آ ج ہم سے بہت اگے نکل چکے ہیں اور ہمارے نااہل حکمرانوں سے صرف 4 صوبے نہیں سنبھل پارہے ہیں پاکستان کےکسی کو نے یا صوبے میں خوشحالی یا امن نہیں کیونکہ نااہل حکمران  کچھ نہیں کرسکتے ….واہ رے واہ پاکستان …خوب ہے تیرا انتیخاب….جعلی حکمران….وہ بھی ناکام…اب کیا ہوگا تیرا انجام ….بدقسمت پاکستان …یا پھر عوام…ایک آبادی کے حساب سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جو سرمایہ داروں وڈیروں کی غلامی کی چھت کے نیچے قید ہوچکے  ہیں صوبہ پنجاب جو کہ وزیراعظم نوازشریف کا صوبہ ہے  اس صوبے پر وزیراعظم اورانکے  خاندان کی حکمرانی ہے وہاں کسی عام آ دمی کو انصاف اور دیگر  عوامی سہولیات  میسر نہیں پاکستان کی عوام بے بسی اوربے کسی کی زندگی گزاررہےہیں اور اگر کوئی خوشحال ہے تو وہ صرف وزیراعظم کا خاندان جو  پنجاب کی 65 ٪ غریب محکوم عوام پر قابض ہیں ….خوب کریں عیش حکمران اور  پسے  بچاری عوام …واہ رے واہ حکمران …بھاڑ میں جاے پاکستان …..بدقسمت عوام …یاپھر پاکستان ..سب سے زیادہ صنعتیں پنجاب  میں ہونے کے باوجود سب سے کم ٹیکس پنجاب سے آتا ہے اور سب سے زیادہ  بجٹ پنجاب کو جا تا ہے مگر پھر بھی عام تک کچھ نہیں پہنچ پاتا ہے….واہ رے واہ عام عوام …کچھ بھی  ہو  تیرا  انجام …..عیش کرےگا حکمران  اور یہ  جاگیردارانہ نظام…….بھاڑ  میں جا ے پاکستان ……بس مزے اڑاے وزیراعظم پاکستان….بد قسمت پاکستان ! یا پھر عوام

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ  ہے آبادی کے تناسب سے مگر وہ سرمایہ داروں وڈیروں اور جاگیرداروں اور چند خاندانوں کے غلام بنے ہوے ہیں انہی اپنی اولادوں کیلئے اپنی آ واز بلند کرنی ہوگی جس طرح سے سندھ میں اردو بولنے والے مہاجر ان جاگیرداروں وڈیروں کے خلاف چٹان بنے ہوے ہیں اور پچھلے 30 سال سے اس نظام سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جس کی وجہ سے صوبہ سندھ 2  صوبہ کی طرح نظر آ تاہے  جیسے دیہی اور شہری سندھ…دیہی سندھ وہ حصہ ہے جو کافی حد تک جاگیرداروں وڈیروں کی ڈالی ہوی بیڑیوں میں جکڑے ہوے ہیں جو انکے پر اپنی ہی حکمرانی قائم رکھنے کیلیے اپنا غلام بناے ہوے ہیں..اور ایک حصہ شہری سندھ ہے جو باشعور طبقے کی آ بادی ہے جہاں جاگیرداروں وڈیروں کی دال نہ  گل سکی تو وہ دوسرے ہتھکنڈوں سے اپنا غلام بنا کر رکھنے کیلئے اپنے حکومتی  مشینری سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور شہری سندھ کی نمایندہ جماعت کو اختیارات دینے کے بجاے شہوی سندھ کے عوام خصوصاً مہابروں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں جیسے انکا کوی والی وارث نہیں..واہ رے واہ عوام ….بدقسمت پاکستان ! یا پھر عوام ….اگر ہم بلوچستان کو دیکھیں تو وہاں تو صرف سرداریت ہے جو اپنی سرداریت قائم  رکھنے کے لیے اپنی قوم کو جہالیت کے اندھیرے میں جھونک رہے ہیں …..پاکستان کا سب سے حساس صوبہ  خیبرپختونخواہ کی بات کریں تو وہ پاکستان کے جاگیرداروں  وڈیروں کے ہاتھ سے نکل کر طالبان کے ہاتھوں میں چلاگیا اور آج وہاں تحریک انصاف کی شکل میں طالبان کی حکمرانی ہے..ایسا لگتا ہے پاکستان میں کوی آزادانہ نکل و حرکت نہیں کر  سکتا …پاکستان  کی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں پوری قوم کو بے وقوف بناکر یہ جاگیردار وڈیرے اپنی جائیدادیں  بنا رہے ہیں….واہ رے واہ عوام  …بد قسمت پاکستان یا پھر عوام……..

اے قائد اعظم ! کیا اسی لیے بنایا تھا پاکستان? یہاں تو ہیں بس خاندانی حکمران….
واہ رے واہ پاکستان ….4 صوبے چاروں غلام  پھر بھی کہتے ہیں ازاد ہے پاکستان ……

بدقسمت ! پاکستان یا پھر عوام 

 

Advertisements